16 اگست 2026 - 16:22
امیل لحود: اسرائیل سے مذاکرات پر نظرثانی کی جائے، مزاحمت لبنان کا مضبوط مذاکراتی ہتھیار ہے

لبنان کے سابق صدر امیل لحود نے دیر الزہرانی اور انصار پر حالیہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے عالمی برادری اور بالخصوص امریکا کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ مذاکراتی عمل پر نظرثانی اور لبنان کی مزاحمت کو مذاکرات میں ایک مضبوط دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے پر زور دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امیل لحود نے ایک بیان میں دیر الزہرانی اور انصار پر اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے ان حملوں پر عالمی برادری، بالخصوص امریکا کی خاموشی کی مذمت کی۔

انہوں نے لبنان کی جانب سے ان حملوں پر اختیار کیے گئے محدود ردعمل پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جرائم کی سنگینی کے مقابلے میں سرکاری ردعمل انتہائی کمزور ہے۔

لبنان کے سابق صدر نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے طریقۂ کار پر نظرثانی سمیت عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فریق کی نگرانی میں مذاکرات جاری رکھنا جو اسرائیلی حملوں پر خاموش ہے، دراصل اسرائیل کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ لبنان کے ممکنہ ردعمل کی پروا کیے بغیر اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے۔

لحود نے موجودہ حالات میں لبنان کے اندر قومی اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ داخلی سیاسی اختلافات کو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

انہوں نے اس خیال کو مسترد کیا کہ اسرائیلی جرائم سے مزاحمت اور اس کے حامی کمزور ہو جائیں گے اور کہا کہ آنے والے حالات اس اندازے کی غلطی واضح کر دیں گے۔

امیل لحود نے تمام لبنانیوں سے مزاحمت کی حمایت میں متحد ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کو کمزور یا ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے کے بجائے اسے کم از کم مذاکرات میں لبنان کے ایک مضبوط پتے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha